لوگ وہاں خیر کے کاموں کیلئے نہیں جاتے
گزشتہ دنوں میرا سفر ثمرقند‘ تاشقند اوربخارا کا تھا‘ کیا انوکھا روحانی سفر تھا‘ ایک بات پر حیرت ہوئی کہ لوگ مجھ سے پوچھنے لگے آپ بھی وہاں جارہے؟ اور آپ وہاں کیا کرنے گئے تھے؟ مجھے یہ بات پہلے تو چبھی پھر پتہ چلا کہ لوگ وہاں خیر کے کاموں کے لیے نہیں جاتے۔ لیکن سب نہیں بہت سے ایسے ہیں جو وہاں روحانیت اور روحانی دنیا کے بڑے بڑے روحانی مراکز اور آستانے جن سے ابھی بھی خیریں پھوٹ رہی ہیں اس کی مثال یوں ہے کہ ایک صاحب نیل (وہ پاؤڈر جو برصغیر میں سفید کپڑوں کو لگایا جاتا ہے) سات جہاز لے کر جارہے تھے‘ راستے میں ایک جہاز ڈوب گیا ‘باقی چھ بچے‘ جس ملک میں لیکر جارہا تھا وہاں مال کی قیمت بہت اچھی لگی اور یکایک مالدار ہوگئے۔ شادی کی چاہت ہوئی ایک حسین وجمیل خاتون سے شادی کرلی‘ اخراجات اتنے بڑھے اور بیوی پر اتنا خرچ کیا چھ جہازوں کا سرمایہ اور اس کا منافع سب ختم ہوگیا۔ جب سب کچھ لٹ گیا تو بیوی منہ موڑ گئی‘ خالی ہاتھ واپس آرہا تھا راستے میں اس جگہ آیا جہاں اس کا جہاز ڈوبا تھا ‘سمندر ابھی تک نیل ابل رہاتھا۔ حیران ہوا کہ عورت چھ جہاز کھاگئی اور سمندر ایک جہاز بھی ابھی تک ہضم نہیں کرسکا اور ابھی تک اس کا پانی نیلگوں ہی ابل رہا تھا۔
حق اور ھو کی روحانی صدائیں
یہ مثال سنی‘ بیان ہوئی لیکن جب میں بخارا ثمرقنداور تاشقند پہنچا تو پھر یہی بات وہاں سمجھ آئی کہ سوویت یونین کے دور میں اسلام کے تمام نشانات مٹادئیے گئے لیکن جو روحانی مراکز اور درویشوں کی خانقاہیں اور آستانے باقی بچے ان سے ابھی بھی ’حق‘ اور’ ہو‘ کی روحانی صدائیں اور نادیدہ آوازیں بلند ہورہی ہیں اور سننے والے سن رہے ہیں اور پانے والے پارہے ہیں۔ یہ حق کا خاصا ہے کہ وہ جتنا بھی دبے اتنا ابھرتا ہے۔ حق مٹائے مٹتا نہیں ایک وقت آتا ہے حق پھر سے اپنے پورے حقائق کے ساتھ سچی بلندیوں پر چھاتا اور آتا ہے بالکل یہی حالات انہی شہروں کے ہیں اب پھر سے حق اپنی پوری حقیقتوں کے ساتھ بلند ہورہا ہے‘ اس کو بلند کرنے میں جو بہترین ہاتھ ہے وہ وہاں کے موجودہ صدر عزت مآب جناب شوکت مرزا انہوں نے بہت سی پابندیاں ختم کیں اور سچی راہوں پر چلنے والے روحانی دلوں کو ٹھنڈک اور خوشبو میسر کی۔ میں بخارا کے ایک روحانی آستانے میں جو اس وقت ایک بازار اور مارکیٹ کی شکل میںہے‘ کھڑا درود پاک پڑھ رہا تھا دیواروں سے پراسرار آوازیں ایسے محسوس ہوئیں جیسے کہ ہر دیوار کی ہر اینٹ اللہ ھو کررہی ہے۔ میں چونکا دائیں بائیں نظر دوڑائی‘ مجھے اللہ ھو کرنے والا کوئی ایک فرد بھی نظر نہ آیا۔ میں حیران ہوا کہ یہ آواز کہاں سے آئی ؟دائیں دیکھا‘ بائیں دیکھا‘ اوپر نیچے نظر دوڑائی‘ کسی کونے‘ کسی گیلری‘ کسی اوٹ میں کوئی فرد ایسا ہو کہ کسی کی آواز مجھ تک پہنچ رہی ہو لیکن مجھے مایوسی ہوئی‘ چند لمحوں کے لیے مجھے اپنے کانوں میں شک سا محسوس ہوا کہ شاید میرے کان دھوکہ کھارہے ہیں۔ میں پھر درودپاک پڑھنے میں مشغول ہوگیا پھر مجھے وہی اللہ ھو کی صدائیں بہت سوز اور گداز کے ساتھ اور اچھی کیفیات کے ساتھ مجھ تک پہنچیں۔
خیر کی طرف اٹھے ہوئے قدم کبھی رائیگاں نہیں جاتے
مجھے حیرت ہوئی آخرکار میرے دل کے اندر سے ایک آواز آئی فضاؤں اور ہواؤں میں اور اس عمار ت کی اینٹ کے ہر ہر ٹکڑے اور ذرے نے صدی پہلے جو حق ھو کی آوازیں بلند ہوچکی تھیں اتنی رچ بس گئی ہیں کہ آج بھی وہ آوازیں اینٹ اینٹ سے پھوٹ پھوٹ کر ان ہواؤں کو معطر کررہی ہیں۔ میں نے پھر کانوں کو اس کی طرف متوجہ کیا تو میری بات سچ نکلی کہ اینٹ کے ہر ذرے سے‘ ہر درو دیوار سے حق ھو کی آوازیں اور اللہ ھو کی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ یہی حقیقت ہے یہی سچائی ہے یہ سفر ایک سبق دیتا ہے کہ کبھی بھی آپکی کی ہوئی نیکی ضائع نہیں جائے گی ۔خیر کی طرف اٹھے ہوئے قدم چاہے وہ فی الوقت آپ کو خیر کا نتیجہ فراہم نہیں کررہے کبھی رائیگاں نہیں جائیں گے ۔خیر کے لیے نکلی ہوئی آواز ‘لکھے ہوئے الفاظ اور صدائیں جو بلند ہوئی ہیں وہ ایک وقت آئے گا رنگ لاتی ہیں اور روح کے آنگن کو پھول اور کلیوں سے سجاتی ہیں۔ پھر میں مست ہوگیا اور ان صداؤں کو سننے میں حتیٰ کہ مجھے اپنا آپ بھول گیا اور ایک شعر میری زبان پر اچانک آیا ؎
اس کو ڈھونڈنے نکلے تھے اور اپنا آپ گنوا بیٹھے
پاگل جاگتی آنکھوں میں ہم کیسے خواب سجا بیٹھے
ان شاء اللہ اُن فضاؤں میں پھر سے بہار آئے گی
یقین جانیے! بخارا کی ہواؤں میں ابھی بھی روحانیت کے بخارات باقی ہیں اسم ذات اللہ کی صدائیں اور گونج زندہ ہے ہاں ہمارے سننے والے کان وہ نہیں رہے لیکن حقیقتیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ سدا زندہ اور تابندہ ہوتی ہیں۔ آئیے! پھر سے اپنے جذبے آباد و شاد رکھیں۔ ان شاء اللہ یہ بخارا‘ یہ ثمرقند اور تاشقند جس کی ہر گلی اور کوچے میں وقت کے باکمال ولی اور بے مثال ہستیاں آرام فرمارہی ہیں‘ ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی اور فضا میں بہار آئے گی اور ان شاء اللہ آئے گی اور ہمیں ایک سبق پھر سے یاد کرنا ہے کبھی بھی کسی نیکی کو رائیگاں نہ سمجھیں‘ چاہے وہ صدقہ، خیرات، زکوٰۃ ،عشر، میٹھے بول، کسی غریب کی مدد اور کسی کے ساتھ بندہ پروری‘ کبھی ضائع نہیں جاتی اپنے بھی کام آتی ہے اور نسلوں کے بھی کام آتی ہے۔
حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (دامت برکاتہم) فاضل طب و جراحت ہیں اور پاکستان کونسل سے رجسٹرڈ پریکٹیشنز ہیں۔حضرت (دامت برکاتہم) ماہنامہ عبقری کے ایڈیٹر اور طب نبوی اور جدید سائنس‘ روحانیت‘ صوفی ازم پر تقریباً 250 سے زائد کتابوں کے محقق اور مصنف ہیں۔ ان کی کتب اور تالیفات کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ حضرت (دامت برکاتہم) آقا سرور کونین ﷺ کی پُرامن شریعت اور مسنون اعمال سے مزین، راحت والی زندگی کا پیغام اُمت کو دے رہے ہیں۔ مزید پڑھیں